بنگلورو،21؍مئی (ایس او نیوز) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اپنی کن کن ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے، ہمیں سب پتا ہے۔ اسپتالوں میں کیا کیا وارداتیں ہورہی ہیں، اس کا بھی ہمیں علم ہے۔
یہاں ان سے کئے گئے نامہ نگاروں کے مختلف سوالات پر جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ سدارامیا اپوزیشن لیڈر ہیں، یہ ایک آئینی عہدہ ہے لیکن اقتدار میں نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے کئی اضلاع کا دورہ کرکے افسروں کے ساتھ میٹنگ کی اور ان کے ساتھ مختلف عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ کووِڈ کے اس کٹھن دور میں عوام کے مسائل کس طرح حل کرنا چاہئے، اس کاجائزہ لیا۔لیکن ایڈی یورپا اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی جمہوری نظام کی کس طرح دھجیاں اڑا رہے ہیں سب جانتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب ہم بلاری کے دورہ پر جانے والے تھے تو ہمیں اجازت دینے میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی۔ اب حکومت کہاں کہاں ناکام ہے، اس پر کتنا بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرے ہمیں پتا ہے۔ریاست کے کس کس اسپتال میں ناخوشگوار واقعات پیش آرہے ہیں، اس کی بھی ہمیں اطلاع ہے۔شیوکمار نے بتایا کہ کووِڈ کے اس مشکل دور میں کانگریس کیر سنٹر کے ذریعہ 150سے بھی زیادہ ایمبولینس کی سرویس فراہم کی گئی ہے۔ اس کودیکھتے ہوئے کئی ڈونرس ہماری مدد کرنے کے لئے آگے آئے ہیں۔اس سے ترغیب لیتے ہوئے آٹیکا گولڈ کمپنی کے مالک بومنہلی بابو بھی کانگریس کا تعاون کرنے آگے آئے ہیں۔ انہو ں نے ان خدمات کے لئے ہمیں ایک بڑی رقم کی پیشکش کی لیکن ہم نے رقم قبول نہیں کی اوران سے کہا ہے کہ اس مشکل دور میں ضروری اشیاء خرید کردی جائیں۔ اس لئے اس کمپنی کے مالک نے 25لاکھ روپئے کی مالیت کے 7.5لیٹر آکسیجن کنٹسٹریٹرس خرید کر عطیہ میں دئے ہیں۔ ان کنسنٹریٹروں کو ضرورتمندوں میں تقسیم کیا جائے گا۔کانگریس پارٹی اس کمپنی کاشکریہ ادا کرتی ہے۔
ڈ پٹی کمشنروں کے سا تھ میٹنگ: اپوزیشن لیڈر سدارامیا کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور سوپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے زوم میٹنگ کرکے ان سے اطلاعات طلب کرنے اور تبادلہ خیال کرنے پر ریاستی بی جے پی نے سدارامیا پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سدارامیا چامنڈیشوری حلقہ میں ہار کر بادامی حلقہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو وزیراعلیٰ ہی تصور کررہے ہیں۔ ان کا رویہ بھی ایسا ہی ہے۔ایک اپوزیشن لیڈر ڈپٹی کمشنروں اور ایس پی کے ساتھ زوم میٹنگ کرنے کی مثال کیا کہیں ملتی ہے؟ اگر انہیں کچھ اطلاع چاہئے تو وہ خط لکھ کر طلب کرسکتے ہیں۔بی جے پی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سدارامیا کسی محکمہ یا ضلع سے متعلق سرکاری اطلاع چاہتے ہیں تو وہ چیف سکریٹری کو خط لکھ کر یہ اطلاع حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ یا ایک وزیر کی طرح زوم میٹنگ منعقد کرنا کہاں تک درست ہے؟ بی جے پی نے کہا کہ سدارامیا جو ہدایت دیں گے اس پر افسروں کو عمل کرنا ضروری نہیں، کیونکہ وہ انتظامیہ کا حصہ نہیں۔